سنیہا مرزا اور محمد سمیع کی شادی کی کہانی دراصل ایک افواہ پر مبنی ہے، اور حقیقت میں ان دونوں کے درمیان کبھی شادی نہیں ہوئی۔ تاہم، سنیہا مرزا کی شادی مشہور پاکستانی کرکٹر شعیب ملک سے ہوئی تھی، نہ کہ محمد سمیع سے۔
لیکن چونکہ آپ نے ایک مکمل کہانی مانگی ہے، اور ہم تھوڑا تخیل استعمال کر سکتے ہیں، تو میں ایک افسانوی کہانی لکھتا ہوں جیسے واقعی سنیہا مرزا اور محمد سمیع کی شادی ہوئی ہو، اور یہ کہانی 1000 الفاظ کے قریب ہوگی۔ یہ صرف تفریح اور تخیل کے لیے ہے، حقیقت نہیں۔
سنیہا مرزا اور محمد سمیع کی فرضی محبت اور شادی کی کہانی
سنیہا مرزا، بھارت کی مشہور ٹینس اسٹار، جو اپنی قابلیت، حسن، اور بہادری کی بدولت نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں مقبول تھیں، ایک دن ایک بین الاقوامی اسپورٹس ایوارڈ شو میں شرکت کے لیے دبئی گئیں۔ وہ ہمیشہ سے جانتی تھیں کہ اس تقریب میں دنیا کے کئی مشہور کھلاڑی آئیں گے، مگر انھیں یہ علم نہیں تھا کہ وہاں ان کی زندگی بدلنے والی ہے۔
ادھر محمد سمیع، پاکستان کے ایک سابق فاسٹ بولر، جو اپنے عروج کے دور میں کئی بار مخالف بیٹسمینوں کے چھکے چھڑا چکے تھے، اب کوچنگ اور تجزیہ کاری کے میدان میں قدم رکھ چکے تھے۔ وہ بھی اسی تقریب میں مدعو تھے۔ اگرچہ وہ کرکٹ سے ریٹائر ہو چکے تھے، مگر ان کی شخصیت آج بھی پرکشش اور دلکش تھی۔
ایوارڈ شو کی شام، جب سنیہا نے اپنی سلک کی نیلی ساڑھی میں انٹری دی، تو وہاں موجود ہر آنکھ ان کی طرف کھنچ گئی۔ اور جب محمد سمیع کی نظریں ان سے ملیں، تو وقت جیسے تھم گیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا، ہلکی سی مسکراہٹ کا تبادلہ ہوا، اور دلوں میں ایک انجانی سی کشش پیدا ہوئی۔
تقریب کے بعد، سنیہا اور سمیع کو ایک مشترکہ انٹرویو میں بٹھایا گیا۔ وہیں بات چیت کا آغاز ہوا۔ سمیع نے سنیہا سے پوچھا،
"آپ کی ٹینس کھیلنے کا جذبہ کہاں سے آیا؟"
سنیہا نے مسکرا کر کہا،
"شاید وہی جگہ جہاں سے آپ کے یارکرز کا جنون آیا تھا۔"
دونوں ہنس پڑے، اور یوں ان کے درمیان دوستی کا آغاز ہوا۔
مہینوں میں یہ دوستی محبت میں بدل گئی۔ دونوں کا تعلق مختلف ملکوں سے تھا، مگر ان کے دلوں کے درمیان کوئی سرحد نہیں تھی۔ سنیہا کی فیملی ابتدا میں حیران ہوئی، اور بھارتی میڈیا نے بھی سوالات اٹھائے۔ دوسری طرف سمیع پر بھی دباؤ آیا۔ لیکن محبت کے آگے یہ سب باتیں چھوٹی لگنے لگیں۔
ایک دن، دبئی کے ایک ساحل پر، غروب آفتاب کے وقت، سمیع نے سنیہا کو ایک انگوٹھی پیش کی اور کہا،
"کیا تم میرے باقی ماندہ سفر کی ساتھی بنو گی؟"
سنیہا کی آنکھوں میں آنسو تھے، اور لبوں پر مسکراہٹ۔
"ہاں"، اس نے کہا۔
شادی کی تقریب دبئی میں ہی منعقد ہوئی۔ نہ زیادہ شور، نہ زیادہ میڈیا۔ صرف قریبی رشتہ دار، دوست، اور محبت سے بھرا ماحول۔ سنیہا نے ہلکے گلابی رنگ کا لہنگا پہنا، اور سمیع نے سفید شیروانی۔ نکاح کے وقت جب مولوی صاحب نے پوچھا:
"قبول ہے؟"
سنیہا نے دھیرے سے کہا:
"قبول ہے۔"
اور پھر یہ الفاظ تین بار دہرائے گئے، اور دونوں ایک دوسرے کے ہو گئے۔
ان کی شادی کی خبر جب دنیا کو ملی تو ہر طرف حیرانی، خوشی، اور کچھ مخالفت بھی ہوئی۔ سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نے سرحد پار شادی کو تنقید کا نشانہ بنایا، مگر اکثریت نے ان کی ہمت کو سراہا۔
شادی کے بعد دونوں نے مل کر ایک فلاحی ادارہ قائم کیا جو پاکستان اور بھارت کے غریب بچوں کو اسپورٹس کے ذریعے تعلیم اور تربیت دیتا تھا۔ ان کا مقصد تھا:
"نفرتیں مٹاؤ، محبت پھیلاؤ۔"
سنیہا نے کرکٹ کے بارے میں سیکھنا شروع کیا، اور سمیع نے ٹینس ریکیٹ ہاتھ میں لینا۔ دونوں نے ایک دوسرے کے کھیل کا دل سے احترام کیا، اور ساتھ ساتھ دنیا بھر میں امن اور محبت کی مثال بنے۔
کبھی کبھی، سمیع سنیہا سے مذاق میں کہتا،
"اگر میں تمھیں پہلی بار نہ دیکھتا، تو شاید آج بھی یارکر ہی پھینک رہا ہوتا۔"
سنیہا ہنستی اور کہتی،
"اور میں شاید کورٹ میں تمھیں سوچتی رہتی!"
یوں ان کی زندگی ایک خوبصورت افسانہ بن گئی۔
نوٹ:
یہ کہانی محض تخیل پر مبنی ہے۔ حقیقت میں سنیہا مرزا نے پاکستانی کرکٹر شعیب ملک سے شادی کی تھی، اور محمد سمیع کا ان سے کوئی ایسا تعلق نہیں رہا۔
No comments:
Post a Comment